حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکز افکار اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام اتوار، 25 اکتوبر 2026ء کو صبح 9 بجے جامع مسجد زینبیہ و امام بارگاہ مستری محمد عبداللہ، سیالکوٹ میں منعقدہ کانفرنس کا مقصد امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے عظیم علمی و فکری سرمایہ، نہج البلاغہ، کی تعلیمات کو عام کرنا اور معاشرے میں اس کے علمی، اخلاقی، تربیتی اور عملی پیغام کو اجاگر کرنا تھا۔
کانفرنس کے دوران مقررین نے نہج البلاغہ کے خطبات، مکتوبات اور حکمت آمیز اقوال کی روشنی میں انسانی زندگی کی تعمیر، اصلاحِ معاشرہ، عدل و انصاف، کردار سازی اور دینی و اخلاقی اقدار کے فروغ پر روشنی ڈالی۔

کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآن کریم اور منقبت سے ہوا، جس کی سعادت مولانا آصف حسین نے حاصل کی۔ بعد ازاں علمائے کرام اور دانشوروں نے اپنے خطابات میں نہج البلاغہ کی علمی عظمت، فکری گہرائی اور عصر حاضر میں اس کی افادیت کو واضح کیا۔
استاد العلماء علامہ ظہور حسین خان نجفی نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کی علمی و دینی اہمیت اور سیرتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت کو موضوع بنایا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کلامِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا مطالعہ محض علمی استفادے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کی تعلیمات کو کردار، اخلاق اور عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

مرکز افکار اسلامی کے سرپرست علامہ مقبول حسین علوی نے نہج البلاغہ کی ترویج و اشاعت اور اس کے پیغام کو معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچانے کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور حکمت آمیز ارشادات انسان کو فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور عطا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، نہج البلاغہ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے علمی نشستوں، کانفرنسوں اور تربیتی سرگرمیوں کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین خان نے نہج البلاغہ کے علمی و فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی تعلیمات کو عصر حاضر کے فکری اور معاشرتی مسائل کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت اجاگر کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ نہج البلاغہ میں موجود حکمت، عدل، انسانی اقدار اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے متعلق تعلیمات آج بھی انسانیت کی رہنمائی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔

مولانا فیض علی کرپالوی نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کی اخلاقی و تربیتی تعلیمات کو موضوع بناتے ہوئے اس امر کی اہمیت بیان کی کہ انسان کی حقیقی کامیابی علم کے حصول کے ساتھ اس پر عمل کرنے میں ہے۔
انہوں نے سامعین کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اور ارشادات سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی طرف متوجہ کیا۔

مولانا لیاقت علی اعوان نے نہج البلاغہ کے پیغام کو معاشرتی اصلاح، عدل و انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرکے معاشرے میں اخوت، مساوات، دیانت داری، خدمتِ خلق اور ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے نہج البلاغہ کے مطالعے کو عام کرنے اور نئی نسل کو اس عظیم علمی ورثے سے روشناس کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کانفرنس کے دوران مولانا فرحت حسین نے مرکز افکار اسلامی پاکستان کی علمی، فکری، تبلیغی اور تربیتی سرگرمیوں اور خدمات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

انہوں نے مرکز کے زیر اہتمام نہج البلاغہ کی ترویج و اشاعت کے لیے جاری کوششوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کلامِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کو عام کرنے اور معاشرے میں ان کے عملی نفاذ کے لیے ایسی علمی و فکری سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس علمی و روحانی اجتماع کو سراہتے ہوئے نہج البلاغہ کی تعلیمات کو عصر حاضر کی اہم ضروریات سے ہم آہنگ قرار دیا۔
مقررین کے خطابات کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ نہج البلاغہ محض مطالعے کی ایک کتاب نہیں، بلکہ فرد کی اخلاقی تربیت، معاشرتی اصلاح، عدل و انصاف کے قیام اور ایک صالح و باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنمائی کا عظیم سرچشمہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نہج البلاغہ کانفرنس کے انعقاد کو شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفی (ره) کی علمی و دینی خدمات کی یاد تازہ کرنے اور کلامِ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے وابستگی کو فروغ دینے کی بھی ایک اہم کاوش قرار دیا گیا۔











آپ کا تبصرہ